اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ١٣ جون٢٠٢٦ء کو امام خمینی (رہ) ہائر ایجوکیشن کمپلیکس کے شہید صدر(رہ) ہال میں ایک عظیم الشان سیمینار منعقد ہوا، جس کا عنوان "غدیر، شہیدِ رہبر حضرت امام خامنہ ای (رہ) کی نظر میں" تھا۔ اس سیمینار میں امام خمینی (رہ) ہائر ایجوکیشن کمپلیکس کے پرنسپل، مفسرِ قرآن حضرت حجت الاسلام والمسلمین محمد علی رضائی، قرآن و مستشرقین ہائر ایجوکیشن کمپلیکس کے پرنسپل حجت الاسلام والمسلمین الحاج ڈاکٹر حسن زمانی، قرآن و حدیث کمپلیکس کے کلچرل شعبہ کے ذمہ دار جناب حجت الاسلام والمسلمین الحاج ڈاکٹر کریمی پور، اہل بیت (ع) فاؤنڈیشن انڈیا کے محترم سرپرست اعلی حجت الاسلام والمسلمین سید شمشاد علی رضوی، اور فاؤنڈیشن کے صدر حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید سرور عباس نقوی سمیت جامعۃ المصطفیٰ (ص) العالمیہ کی دیگر اہم شخصیات، علماء اور طلابِ کرام نے شرکت اور خطاب کیا۔
اس شاندار سیمینار کا آغاز حجت الاسلام والمسلمین فیض الحسن نے کلامِ مجید کی تلاوت سے کیا۔ اس کے بعد، اہل بیت (ع) فاؤنڈیشن کے صدر حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید سرورعباس نقوی نے ادارے کی ١٨ سالہ سرگرمیوں اور خدمات پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر سرور عباس نے اپنے خطاب کے آغاز میں " رہبرِشہید امام خامنہ ای (رہ) کی نظر میں نعمتِ غدیر کا جائزہ" کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِشہیدانقلاب(رہ) کے فکری نظام میں غدیر ایک مکمل فکری اور سیاسی مجموعہ ہے جو انبیاء کے راستے کے حضرت مہدی(عج) کے ظہور تک جاری رہنے کا ضامن ہے، اور ولایتِ فقیہ، دراصل امامت کا تسلسل اور غدیرکی ولایت کا ادامہ ہے۔ انہوں نے اپنی گفتگو کے آخر میں اپنی اور اہل بیت (ع) فاؤنڈیشن کے تمام اراکین کی جانب سے ولیِ امرِ مسلمینِ جہان حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی خدمت میں تجدیدِ عہد کا اعلان کیا اور ان کی صحت و طولِ عمر کے لئے دعا کی۔
ڈاکٹر نقوی نے اہل بیت (ع) فاؤنڈیشن انڈیا کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ سن ٢٠٠٨ء میں رہبرِشہید (رہ) کے "اسلامی اتحاد اور یکجہتی" کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے قائم کیا گیا تھا۔ تب سے اب تک اس سلسلے میں وسیع خدمات انجام دیتا چلا آیا ہے، جن میں "ہندوستان میں اسلامی اتحاد اور اس کے نفاذ کی راہیں" کے عنوان پر عالمی کانفرنس کا انعقاد، "شعاعِ وحدت" اور "پیامِ اہل بیت(ع) " جیسے جرائد کا اجرا، اور پورے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں حرمِ مطہر حضرت امام رضا علیہ السلام کے محترم خادموں اور مبلغین اور شیعہ، سنی شخصیات کی موجودگی میں عشرۂ کرامت کے خصوصی پروگرام، جیسے "خورشیدِ ولایت کانفرنس اور جشن" رضوی طرزِ زندگی پر سیمینارز، اور علمی مقابلے کا انعقاد شامل ہیں۔
مولانا سرورعباس کے افتتاحی خطاب کے بعد، اہل بیت (ع) فاؤنڈیشن کے سرپرست اعلی محترم حجت الاسلام والمسلمین سید شمشاد علی رضوی نے خطاب کیا۔ انہوں نے غدیر کے حوالے سے رہبرِشہید(رہ) کے فکری نظام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ رہبرِشہید(رہ) کی نظر میں غدیر الٰہی حاکمیت اور ولایت کے تسلسل کے اعلان کا دن ہے۔ انہوں نے اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے غدیر کی چار خصوصیات بیان کیں اور کہا کہ غدیر کا دن کفار کی مایوسی، دین کے اکمال اور الٰہی نعمت کے اتمام کا دن ہے؛ غدیر وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کو پسند فرمایا اور اس دین سے اپنی رضا مندی کا اعلان کیا۔ مولانا شمشاد علی رضوی نے کہا کہ رہبرِشہید(رہ) فرماتے تھے کہ غدیر کا تعلق پوری انسانیت سے ہے، یہ صرف شیعوں تک محدود نہیں ہے۔
بعد ازاں، حوزہ علمیہ کے محترم استاد حضرت حجت الاسلام والمسلمین محمد علی رضائی اصفہانی نے خطاب فرمایا۔ انہوں نے رہبرِشہید (رہ) اور شہدائے رمضان کی یادکو تازہ کرتے ہوئے، رہبرِشہید(رہ) کی نظر میں غدیر کا تمدن ساز کردار" کے موضوع پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر رضائی نے خطبۂ غدیر کی وضاحت کرتے ہوئے اس کے چھ بنیادی عناصر کا ذکر کیا اور کہا کہ غدیر تمدن سازی کا دن ہے، اور خطبہ غدیر میں تمدن سازی کا پہلا عنصر "حکومت" ہے اور رہبرِشہید(رہ) کی نظر میں غدیر، حکومتِ نبوی کا تسلسل اور الٰہی حکومت کا ضابطہ و قانون ہے۔
استاد رضائی اصفہانی کے خطاب کے بعد، حوزہ علمیہ کے مایہ ناز استاد اور مجتمع عالی قرآن و مستشرقین کے پرنسپل محترم جناب حجت الاسلام والمسلمین الحاج ڈاکٹر حسن زمانی نے واقعۂ غدیر کے حوالے سے شیعہ اور اہلِ سنت کے درمیان اہم مشترکات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت اور امامت کے جلووں کا ذکر کیا اور شیعہ و سنی کے مابین مشترکہ طور پر غدیر کے جشن منانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر زمانی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ رہبرِ شہید آیۃ اللہ العظمیٰ خامنہ ای (رہ) کی اہم نصیحت کے مطابق، غدیر کو مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا محور ہونا چاہئے۔
سیمینار کے علمی سیکرٹری حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر کریمی پور نے اساتذہ کے خطابات کا خلاصہ اور نتیجہ پیش کیا۔ اس عظیم الشان علمی سیمینار میں جامعۃ المصطفیٰ (ص) العالمیہ کے مختلف مدارس کے محترم اساتذہ اور طلاب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
آپ کا تبصرہ